استنبول (ویب ڈیسک )سائنسدانوں کی جانب سے ترکیہ کے پہاڑی سلسلے میں ایک کشتی نما ساخت کے حوالے سے تحقیق کی جا رہی ہے اور ان کے خیال میں اس جگہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی موجود ہوسکتی ہے۔برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے کوہ ارارات کے قریب دوروپینار نامی مقام میں کشتی نما ساخت کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی جانب سے تحقیقی کام کیا جارہا ہے۔ان ماہرین نے وہاں کی مٹی کے اندر کاربن کی موجودگی کو دریافت کیا ہے جبکہ اسی پہاڑی سلسلے میں چند گز کی دوری کے مٹی کے نمونوں میں یہ عنصر دریافت نہیں ہوا۔محققین کے مطابق اس سے ایسے نامیاتی مواد کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے کہ جو کہ قدیم لکڑی کے باقیات کا نتیجہ ہوسکتا ہے مگر فی الحال کسی قسم کی لکڑی کو دریافت نہیں کیا جاسکا۔اس پہاڑی سلسلے کے نئے ریڈار اسکینز میں بھی زیرزمین ایسے اشارے ملے ہیں جو قدرتی پہاڑی اسٹرکچر سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس مقام میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائی 1959 سے کی جا رہی ہے جب وہاں کی فضا سے لی جانے والی تصاویر سامنے آئی تھیں۔مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مئی 1948 میں شدید بارشوں اور زلزلوں کے نتیجے میں اس خطے کے اردگرد موجود مٹی بہہ گئی تھی جس کے نتیجے میں یہ پراسرار ساخت سامنے آئی، جسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔محققین کی جانب سے اس پہاڑی سلسلے کے مختلف حصوں سے مٹی کے ایک ہزار نمونوں اکٹھے کیے گئے اور ان میں کاربن کی موجودگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان کی جانب سے ریڈار کو سطح سے 20 فٹ نیچے دیکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔محققین کے مطابق مٹی کے نمونوں میں نارمیاتی مواد اور پوٹاشیم کو دریافت کیا گیا جو کہ کسی قدیم لکڑی کی کشتی کی بوسیدہ لکڑی کے باعث متوقع تھا۔البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ابھی 100 فیصد یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ واقعی کسی قدیم ترین لکڑی کی کشتی کا نتیجہ ہے کیونکہ 5 فیصد امکان یہ ہے کہ اس کی وجہ کچھ اور ہو۔اسی ٹیم نے اگست 2026 میں اس خطے کے ریڈار سروے کے بارے میں اعلان کیا تھا۔اس ٹیم کی جانب سے ڈیٹا کا ابھی بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے اور مخصوص لوکیشنز پر ڈرلنگ کی جا رہی ہے کہ تاکہ معلوم ہوسکے کہ مخصوص ساخت کے نیچے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا تو یہی ماننا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی جگہ موجود ہے مگر پھر بھی ابھی تمام نتائج ابتدائی ہیں اور ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں واقعی یہ کشتی موجود ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے






