کبھی خبر کا انتظار ہوا کرتا تھا، اب خبر سے جان چھڑانا مشکل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب صبح اخبار ہاتھ میں آتا تو معلوم ہوتا کہ گزشتہ روز ملک اور دنیا میں کیا ہوا۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے اپنے مخصوص اوقات تھے اور خبر سننے یا پڑھنے کے لیے باقاعدہ وقت نکالنا پڑتا تھا۔آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔ آنکھ کھلنے سے پہلے موبائل فون کی اسکرین پر درجنوں خبریں، ویڈیوز، تبصرے، تجزیے اور دعوے ہمارا استقبال کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ کہیں پیش آتا ہے، کسی کے موبائل کیمرے میں محفوظ ہوتا ہے اور چند لمحوں بعد پورے ملک میں گردش کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی بیان سامنے آتا ہے تو اس کے ساتھ تبصروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، کوئی تصویر نظر آتی ہے تو اس کے ساتھ ایسی کہانی جوڑ دی جاتی ہے جس کا حقیقت سے تعلق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ ہم تاریخ کے اس دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں خبر کی قلت نہیں بلکہ خبر کی کثرت مسئلہ بن گئی ہے۔یہ کثرت بظاہر ایک اچھی بات ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے دروازے عام آدمی کے لیے کھول دیے ہیں۔ اب کسی شہری کو اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کے لیے لازما کسی بڑے ادارے یا میڈیا ہاس کے دروازے پر دستک نہیں دینی پڑتی۔ ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک تحریر بعض اوقات ایسا مسئلہ سامنے لے آتی ہے جو برسوں سے نظر انداز ہورہا ہو۔ کسی دور دراز علاقے میں ہونے والا واقعہ چند لمحوں میں قومی سطح پر زیر بحث آسکتا ہے۔ کسی عام شہری کی شکایت متعلقہ ادارے تک پہنچ سکتی ہے اور کسی اہم معاملے پر عوامی توجہ مرکوز ہوسکتی ہے۔ یہ سوشل میڈیا کی طاقت ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ہر آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے اور سوشل میڈیا کی آزادی کا دوسرا رخ خاصا تشویش ناک ہے۔ وہی شخص جو اپنی شکایت دنیا کے سامنے لا سکتا ہے، کسی دوسرے کے بارے میں غیرمصدقہ الزام بھی پھیلا سکتا ہے۔ وہی موبائل فون جو کسی ظلم یا ناانصافی کی ویڈیو محفوظ کرسکتا ہے، کسی پرانی ویڈیو کو نئے واقعے کے نام سے بھی پیش کرسکتا ہے۔ ایک درست تصویر کے ساتھ غلط وضاحت لگا کر پورا تاثر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یوں مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ ہمارے پاس کتنی معلومات ہیں، اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ ان معلومات میں سچ کتنا ہے؟ہم نے خبر حاصل کرنے کی رفتار تو بڑھا لی ہے، مگر خبر کو پرکھنے کی عادت اسی رفتار سے نہیں بڑھا سکے۔ صحافت میں خبر صرف یہ نہیں ہوتی کہ کسی نے کچھ کہہ دیا یا کسی واقعے کی ایک ویڈیو سامنے آگئی۔ خبر کے پیچھے ذریعہ، پس منظر، تصدیق، متعلقہ فریق کا مقف اور معلومات کے درست ہونے کا اطمینان ضروری ہوتا ہے۔سوشل میڈیا نے اس پورے عمل کو چند سیکنڈ کا بنا دیا ہے۔ ایک پوسٹ سامنے آتی ہے، لوگ اسے خبر سمجھ کر آگے بڑھاتے ہیں، پھر کوئی دوسرا اس میں اپنی طرف سے ایک جملہ شامل کرتا ہے، تیسرا اس پر تبصرہ کرتا ہے اور چوتھے تک پہنچتے پہنچتے اصل واقعہ ایک مختلف شکل اختیار کرچکا ہوتا ہے۔یہ صرف معلومات کی معمولی تبدیلی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔ کسی بے گناہ فرد پر الزام لگ سکتا ہے، کسی خاندان کی عزت متاثر ہوسکتی ہے، کسی ادارے کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوسکتا ہے اور کسی حساس معاملے میں عوامی اشتعال جنم لے سکتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر تصدیق سے پہلے فیصلہ کرلیتے ہیں۔ مکمل خبر پڑھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا، لیکن اس پر رائے قائم کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے چند سیکنڈ کافی ہوتے ہیں۔ ویڈیو کے
چند سیکنڈ دیکھے اور فیصلہ ہوگیا کہ قصوروار کون ہے، سرخی پڑھی اور طے کرلیا کہ واقعہ کیا ہے، کسی پسندیدہ شخصیت کا بیان سامنے آیا تو اسے سچ مان لیا اور کسی ناپسندیدہ شخصیت کا مقف سامنے آیا تو اسے جھوٹ قرار دے دیا۔یوں سوشل میڈیا نے ہمیں صرف معلومات کی فراوانی نہیں دی بلکہ فوری ردعمل کی عادت بھی پیدا کردی ہے۔ ہم خبر پڑھنے سے پہلے اس پر ردعمل دینے لگے ہیں، پوری بات سمجھنے سے پہلے اپنی رائے قائم کرلیتے ہیں اور بعض اوقات اپنی رائے کو حقیقت سے بھی زیادہ اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ صحافت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ خبر اب صرف نیوز روم کی میز پر نہیں آتی بلکہ ہر موبائل فون سے آسکتی ہے۔ یہ صورت حال صحافی کے لیے ایک طرف بے پناہ مواقع پیدا کرتی ہے تو دوسری طرف اس کی ذمہ داری کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔معلومات کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن ہر دستیاب معلومات خبر نہیں ہوتی۔ ایک صحافی اگر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر چیز کو خبر سمجھ کر نشر یا شائع کرنے لگے تو وہ خبر دینے کے بجائے افواہ پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ صحافت کا بنیادی اصول آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا: پہلے تصدیق، پھر اشاعت۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج خبر کی رفتار بہت تیز ہے، اس لیے تصدیق کے لیے وقت کم رہ گیا ہے، جبکہ ایک غلط خبر کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔ چند منٹ کی تاخیر شاید کسی خبر کو تھوڑا پیچھے کردے، لیکن غلط خبر کی اشاعت کسی ادارے اور صحافی کے اعتماد کو طویل عرصے تک نقصان پہنچا سکتی ہے۔سوشل میڈیا نے ہماری اجتماعی سوچ کو بھی ایک خاص انداز میں متاثر کیا ہے۔ ہم اکثر وہی مواد دیکھتے ہیں جو ہماری پسند، سیاسی وابستگی یا سماجی سوچ سے مطابقت رکھتا ہے۔ ایک مخصوص رائے رکھنے والا شخص زیادہ تر انہی صفحات، اکانٹس اور گروپس کو دیکھتا ہے جو اس کے خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ اپنے ہی خیالات کے ایک دائرے میں محدود ہوجاتا ہے اور اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید ہر شخص اسی طرح سوچتا ہے۔ پھر جب کوئی مختلف رائے سامنے آتی ہے تو اسے سمجھنے یا سننے کے بجائے مسترد کرنا آسان لگتا ہے۔ یوں سوشل میڈیا معلومات کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات رائے کی دیوار بھی بن جاتا ہے۔یہاں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اختلاف غلطی نہیں۔ ممکن ہے سامنے والا شخص ہم سے مختلف سوچتا ہو اور پھر بھی اس کی بات درست ہو۔ ممکن ہے ہماری اپنی رائے نامکمل ہو اور خبر کا کوئی ایسا پہلو ہماری نظر سے اوجھل ہو جو دوسرے شخص نے دیکھا ہو۔ لیکن سوشل میڈیا کے شور میں “ممکن ہے” کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے۔ ہر شخص اپنے موقف کو آخری سچ سمجھنے لگا ہے اور اختلاف کرنے والے کو دلیل کے ساتھ جواب دینے کے بجائے مخالف سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں مسئلہ صرف غلط خبر کا نہیں بلکہ درست خبر کو بھی اپنی پسند کے مطابق دیکھنے کا ہے۔اسی لیے آج میڈیا خواندگی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوچکی ہے۔ گھروں میں بچوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ موبائل فون کیسے استعمال کرنا ہے، انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ موبائل پر ملنے والی معلومات کو کیسے پرکھا جاتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں بھی یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ خبر، رائے، اشتہار، تبصرے، تصویر اور ویڈیو میں کیا فرق ہے اور کسی معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کیوں ضروری ہے۔ بڑوں کو بھی اپنے لیے ایک سادہ سا اصول بنانا ہوگا کہ جو بات یقینی نہ ہو، اسے یقین کے ساتھ آگے نہ بڑھایا جائے۔سوشل میڈیا پر کسی خبر کو شیئر کرنا بظاہر معمولی عمل ہے، لیکن اس کے اثرات معمولی نہیں۔ ایک غلط خبر چند لمحوں میں ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی تردید شاید ان لوگوں کے ایک حصے تک بھی نہ پہنچ سکے جنہوں نے اسے پہلے ہی سچ سمجھ لیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ذمہ داری صرف صحافی کی نہیں بلکہ ہر
اس شخص کی ہے جس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور جو کسی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج ہر موبائل صارف کسی نہ کسی طرح معلومات کے سفر کا حصہ ہے۔ وہ چاہے تو درست بات آگے پہنچا سکتا ہے اور چاہے تو غلطی کے ایک ایسے سلسلے کا آغاز کرسکتا ہے جسے روکنا بعد میں مشکل ہوجائے۔ تو پھر سوال وہی ہے کہ کیا سوشل میڈیا نے ہمیں باخبر کردیا ہے؟یقینا اس نے ہمیں باخبر ہونے کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ فراہم کیے ہیں، لیکن باخبر ہونے کے مواقع اور حقیقتا باخبر ہونے میں فرق ہے۔ معلومات کا ہمارے پاس پہنچ جانا کافی نہیں، اس معلومات کو سمجھنا، پرکھنا اور اس کے درست ہونے کا اطمینان کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم صرف اس خبر کو سچ مانتے ہیں جو ہماری پسند کے مطابق ہو تو ہم باخبر نہیں بلکہ اپنی پسند کی معلومات کے اسیر ہیں۔ اگر ہم ہر وائرل چیز کو حقیقت سمجھتے ہیں تو ہم معلومات کے سیلاب میں تیر نہیں رہے بلکہ اس کے بہا میں بہہ رہے ہیں۔اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، اصل مسئلہ معلومات کے ساتھ ہمارا رویہ ہے۔ سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، اسے ہم خبر کے لیے استعمال کریں گے یا افواہ کے لیے، شعور کے لیے یا اشتعال کے لیے، یہ فیصلہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ خبر جتنی تیزی سے ہمارے پاس پہنچ رہی ہے، اتنی ہی سنجیدگی سے ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ اسے آگے بڑھانا ہے یا روک دینا ہے۔ ہر خبر کو شیئر کرنا ضروری نہیں، بعض اوقات کسی غیرمصدقہ خبر کو روک دینا ہی سب سے ذمہ دارانہ عمل ہوتا ہے۔صحافت اور سوشل میڈیا کے اس دور میں شاید ہمیں ایک بنیادی فرق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ خبر کا وائرل ہونا اس کے درست ہونے کی دلیل نہیں، اور کسی خبر کا کم پھیلنا اس کے غیر اہم ہونے کی دلیل نہیں۔ سچ کو مقبولیت کی نہیں، تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیں خبر بہت مل رہی ہے، شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ اصل ضرورت اب یہ ہے کہ اس ہجوم میں سے سچ کو پہچاننے کی صلاحیت بھی پیدا کی جائے۔ کیونکہ آخرکار معاشرے کو صرف زیادہ معلومات نہیں، درست معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔اور شاید آج کے شور زدہ اطلاعاتی دور کا سب سے اہم اصول یہی ہے کہ ہر وہ چیز جو نظر آئے، خبر نہیں ہوتی اور ہر وہ بات جو وائرل ہوجائے، سچ نہیں
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...
آج کے دور میں خبر تک پہنچنے کے لیے اخبار کے اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ موبائل فون کھولیں اور دنیا بھر کی خبریں چند سیکنڈ میں سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک انقلاب ہے، لیکن اس انقلاب کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ اب جھوٹی خبر بھی سچ کی رفتار سے...
یہ اہم سوال ہے ؟نئے صوبے بنانا اور ملک کے معاشی مسائل حل ہونا دو الگ چیزیں ہیں نئے صوبے بعض انتظامی مسائل کم کر سکتے ہیں، مگر صرف نقشے پر نئی حد بندی کر دینے سے مہنگائی، قرض، کمزور برآمدات، بے روزگاری یا کم ٹیکس وصولی ختم نہیں ہوگی۔حالیہ بحث میں بھی یہی بنیادی...
نیپال میں نصف کلومیٹر سے بڑا برفانی تودہ ہزاروں فٹ نیچے گرا، برف، چٹان، مٹی اور پانی کے ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے؛ ماہرین نے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کو خطرے کی بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔ ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی تصور...